5 اشعار

یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں

Ye saanha bhi hua hai teri Khudai mein

یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں

«یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «حکم مرشد پر جینا ہے، مر جانا ہے راکب مختار» میں 21 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میںطلاق دی گئی دلہن کو منہ دکھائی میں

نہ ان کو جھوٹ پہ اکسا یہ سادہ لوگ کبھیدرود پڑھتے رہے تیری ہمنوائی میں

شدید غصے میں ست رنگی چوڑیوں کے ساتھہمارا دل بھی ہے ٹوٹا تری کلائی میں

وہ موت کے ادب آداب سے نہیں واقفجو جھانکتا ہے پہاڑوں سے روز کھائی میں

یہ اور بات کے ہم مانگتے نہیں ورنہہمارا حصہ ہے دنیا کی پائی پائی میں

— راکب مختار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں