مقرر

آزاد

@awazdil090

30
پیش کردہ کلام
34
محفلوں میں شرکت
آزاد کی آواز میں

صدمے گزرے ایذا گزری

کلام: رند لکھنوی · محفل: لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی · 2026-04-26

«صدمے گزرے ایذا گزری» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

صدمے گزرے ایذا گزریہجر میں تیرے کیا کیا گزری

ہجر میں جان رہی یا گزریرندؔ کہو تم پر کیا گزری

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں Poochhi taqseer to bole koi taqseer nahin مبارک عظیم آبادی
  2. 02 یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے Yaad hai shewa-e-ishq sitam iijaad mujhe کامل شطاری آواز میں دستیاب
  3. 04 ایویں ہن کچھ بول نہ دیویں Aivin hun kujh bol na devin پنجابی شعرا
  4. 05 سزا Saza باقر مہدی آواز میں دستیاب
  5. 06 میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا Mere andar hi kahin aaya tha toofan mera شاہین عباس آواز میں دستیاب
  6. 07 پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر Puhanch gaya wo jab havas ke aakhri muqaam par راکب مختار آواز میں دستیاب
  7. 08 کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے Kisi ki kisi ko mohabbat nahin hai پروین ام مشتاق آواز میں دستیاب
  8. 09 تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا Tum se nazar ke saamne aaya na ja saka بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب