آزاد کی آواز میں
صدمے گزرے ایذا گزری
کلام: رند لکھنوی · محفل: لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی · 2026-04-26
«صدمے گزرے ایذا گزری» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
صدمے گزرے ایذا گزریہجر میں تیرے کیا کیا گزری
ہجر میں جان رہی یا گزریرندؔ کہو تم پر کیا گزری