مقرر

آزاد

@awazdil090

30
پیش کردہ کلام
34
محفلوں میں شرکت
آزاد کی آواز میں

یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے

کلام: کامل شطاری · محفل: معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری · 2026-04-27

«یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھےآپ یاد آئے تو پھر کچھ نہ رہا یاد مجھے

رہ گئی صرف یہی ایک دعا یاد مجھےوہ سلامت رہے جس نے کیا برباد مجھے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں Poochhi taqseer to bole koi taqseer nahin مبارک عظیم آبادی
  2. 03 صدمے گزرے ایذا گزری Sadme guzre eiza guzri رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  3. 04 ایویں ہن کچھ بول نہ دیویں Aivin hun kujh bol na devin پنجابی شعرا
  4. 05 سزا Saza باقر مہدی آواز میں دستیاب
  5. 06 میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا Mere andar hi kahin aaya tha toofan mera شاہین عباس آواز میں دستیاب
  6. 07 پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر Puhanch gaya wo jab havas ke aakhri muqaam par راکب مختار آواز میں دستیاب
  7. 08 کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے Kisi ki kisi ko mohabbat nahin hai پروین ام مشتاق آواز میں دستیاب
  8. 09 تم سے نظر کے سامنے آیا نہ جا سکا Tum se nazar ke saamne aaya na ja saka بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب