20 اشعار

صدمے گزرے ایذا گزری

Sadme guzre eiza guzri

صدمے گزرے ایذا گزری

«صدمے گزرے ایذا گزری» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

صدمے گزرے ایذا گزریہجر میں تیرے کیا کیا گزری

ہجر میں جان رہی یا گزریرندؔ کہو تم پر کیا گزری

کیا کہوں تجھ سے حال فرقتگزری جو کچھ جانا گزری

الفت بت نے کر دیا کافریہ کیا بار خدایا گزری

آئے نہیں تم عرصہ گزرامنع کیا کس نے کیا گزری

گزرے جس دم ہم دنیا سےہم نے جانا دنیا گزری

بحر جہاں میں زیست ہماریشکل حباب دریا گزری

کس سے کہیے کون سنے گاکیا کیا گزرا کیا کیا گزری

کہتا تھا میں عشق سے باز آدیکھا جو دل شیدا گزری

مر بھی گئے ہم واہ ری غفلتان کو خبر بھی نہ اصلا گزری

اب تو ہے شغل خوں آشامینوبت جام و مینا گزری

کافر پر بھی نہ گزرے ایسیہم پر جو بت ترسا گزری

وقت مرگ یہ جی میں گزرازندگی اپنی بے جا گزری

نالہ کیسا آہ نہیں کیکیا کیا تجھ بن ایذا گزری

ٹوٹ چکا ہے رشتۂ الفتیاس ہے اب تو تمنا گزری

دوسرا تجھ سا کوئی نہ دیکھاپیش نظر اک دنیا گزری

دیکھ کے حال مریض فرقتحالت ہم پہ مسیحا گزری

قابل دید نہ دیکھیں آنکھیںمدت نرگس شہلا گزری

غش کیوں آیا ہم سے تو کہیےکیا کچھ حضرت موسیٰ گزری

کیوں کر جھیلی آفت فرقترندؔ کہو دل پر کیا گزری

— رند لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں