9 اشعار

یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے

Yaad hai shewa-e-ishq sitam iijaad mujhe

یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے

«یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 16 سیکنڈ ہے۔

یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھےآپ یاد آئے تو پھر کچھ نہ رہا یاد مجھے

رہ گئی صرف یہی ایک دعا یاد مجھےوہ سلامت رہے جس نے کیا برباد مجھے

التفات نگہ یار تو یوں بھی ٹھہراہے بہر حال کرم حاصل بیداد مجھے

رات دن ایک نیا کھیل نظر آتا ہےسنیما گھر ہے یہ سب عالم ایجاد مجھے

ایک مجبور محبت کی زباں کیا کھلتیشرم رکھ لی جو نہ دی رخصت فریاد مجھے

یاد آ آ کے ستانے سے بھلا کیا حاصلکیا یہ ممکن نہیں فرمائیں کبھی یاد مجھے

میرے صیاد نے رکھا ہے اسیر احساںاور پابند کیا چھوڑ کے آزاد مجھے

چاند وہ چاند کہ جس چاند سے قسمت چمکےعید اسی دن مری جس دن وہ کریں یاد مجھے

ناز ہے جس کی غلامی پہ ازل سے کاملؔوہ تو ہونے نہیں دے گا کبھی برباد مجھے

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں