صباگل کی آواز میں
دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا
کلام: عبدالحمیدعدم · محفل: زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم) · 2025-11-23
«دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔
دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیاتصویر کا جمال ابھرتا چلا گیا
شام آئی اور آئی کچھ اس اہتمام سےوہ گیسوئے دراز بکھرتا چلا گیا