دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا
کلام: عبدالحمیدعدم
دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیاتصویر کا جمال ابھرتا چلا گیا
شام آئی اور آئی کچھ اس اہتمام سےوہ گیسوئے دراز بکھرتا چلا گیا
زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)
مہمان شاعر: عبدالحمیدعدم
دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیاتصویر کا جمال ابھرتا چلا گیا
شام آئی اور آئی کچھ اس اہتمام سےوہ گیسوئے دراز بکھرتا چلا گیا
لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لاپھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا
کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیںجا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا