مقرر

حسین بلوچ

@realHussain786

14
پیش کردہ کلام
37
محفلوں میں شرکت
حسین بلوچ کی آواز میں

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے

کلام: کیف بھوپالی · محفل: داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی · 2026-01-13

«ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے

ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیںگلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 02 دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ Dunya mein kuchh apne hi hain kuchh begaane alfaaz کیف احمد صدیقی آواز میں دستیاب
  2. 03 مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا Mujhe naql par bhi itna agar ikhtiyar hota کیف احمد صدیقی آواز میں دستیاب
  3. 04 دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ Dosto bargah-e-qatil sajate jao محسن بھوپالی آواز میں دستیاب
  4. 05 فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں Falak nizaad sahi sar-nigoon zameen pe tha main انجم سلیمی آواز میں دستیاب
  5. 06 کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا Kis mast adaa se aankh ladi, matwala bana lehra ke gira آرزو لکھنوی آواز میں دستیاب
  6. 07 قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں Qurbat baṛhā baṛhā kar be-khud banā rahe hain آرزو لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 08 ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا Hum sar zulf qadd-e-hoor shamaail thahra امیر مینائی آواز میں دستیاب
  8. 09 دل کو تسکین یار لے ڈوبی Dil ko taskeen-e-yaar le doobi خمار بارہ بنکوی آواز میں دستیاب