حسین بلوچ کی آواز میں
کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا
کلام: آرزو لکھنوی · محفل: پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی · 2026-01-06
«کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا» آرزو لکھنوی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی» میں 6 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔
کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گراآگے تو ہیں راہیں اور کٹھن دل پہلے ہی ٹھوکر کھا کے گرا
آگے جو بڑھا تھرائے قدم وہ ہنس جو دیے شرما کے گرابے ہوش نہیں ہشیار تھا میں اٹھنے کا سہارا پا کے گرا