ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے
کلام: کیف بھوپالی
ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے
ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیںگلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے
ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیںگلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے