6 اشعار

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے

Hum un ko chheen kar laaye hain kitne daawedaaron se

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے

«ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سےشفق سے چاندنی راتوں سے پھولوں سے ستاروں سے

ہمارے زخم دل داغ جگر کچھ ملتے جلتے ہیںگلوں سے گل رخوں سے مہوشوں سے ماہ پاروں سے

زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیںامیدوں سے بھروسوں سے دلاسوں سے سہاروں سے

سنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہےگپھاؤں سے پہاڑوں سے بیابانوں سے غاروں سے

برابر ایک پیاسی روح کی آواز آتی ہےکنوؤں سے پن گھٹوں سے ندیوں سے آبشاروں سے

کبھی پتھر کے دل اے کیفؔ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گےمناجاتوں سے فریادوں سے چیخوں سے پکاروں سے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں