مقرر

شہزاد

@shah__zad987

40
پیش کردہ کلام
43
محفلوں میں شرکت
شہزاد کی آواز میں

مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں

کلام: کامل شطاری · محفل: معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری · 2026-04-27

«مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیںغم یار ہے تو جہان ہے مجھے کیا کمی مجھے کیا نہیں

تری بے نیازی کا فتنہ گر مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیںتو ہزار بار جدا رہے تری یاد دل سے جدا نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 زندگانی حسین ہے تو سہی Zindagani haseen hai to sahi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  2. 02 عشق سر پہ سوار تھا یارو Ishq sar pe sawar tha yaaro زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو Mohabbat ghair se ki hai to mera muddaa le lo مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  4. 04 بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے Begana-e-wafa tera shewa hi aur hai مبارک عظیم آبادی
  5. 05 اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں Ab to woh maa'il-e-jafa bhi nahin ناشاد کانپوری
  6. 07 منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی Munh na dhaanko ab to soorat dekh li رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 08 تن دا ماس کھوائی رکھنا سوکھا نہیں Tan da maas khowayi rakhna sookha nahin پنجابی شعرا
  8. 09 تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں Tujh mein kitna gum hoon aur kitna nazar aata hoon main شاہین عباس آواز میں دستیاب