6 اشعار

مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں

Meri aarzoo, mera muddaa koi aur us ke siwa nahin

مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں

«مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «معراج بندگی کا وہی تو مقام ہے کامل شطاری» میں 27 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔

مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیںغم یار ہے تو جہان ہے مجھے کیا کمی مجھے کیا نہیں

تری بے نیازی کا فتنہ گر مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہیںتو ہزار بار جدا رہے تری یاد دل سے جدا نہیں

یہ کہاں کا روگ ہے کیا کہوں مرے دل کو چین ذرا نہیںوہ ملیں تو کوئی مرض نہیں نہ ملیں تو کوئی دوا نہیں

نہیں فرق ذات و صفات میں کہ صفات جمع ہیں ذات میںمیں کہیں بھی اس سے الگ نہیں وہ کہیں بھی مجھ سے جدا نہیں

ترے ہاتھ میری فنا بقا ترے ہاتھ میری سزا جزہمجھے ناز ہے کہ ترے سوا کوئی اور میرا خدا نہیں

وہی ان کی شوخ تجلیاں وہی کاملؔ اور وہی بجلیاںکہے کون کیا ہیں یہ شوخیاں کہ مجال چوں و چرا نہیں

— کامل شطاری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں