زندگانی حسین ہے تو سہی
کلام: زبیر قلزم
زندگانی حسین ہے تو سہیمان لوں گا کہیں دکھے تو سہی
میں تو جی لوں مگر یہ دل میراجینے کی آرزو کرے تو سہی
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
زندگانی حسین ہے تو سہیمان لوں گا کہیں دکھے تو سہی
میں تو جی لوں مگر یہ دل میراجینے کی آرزو کرے تو سہی
عشق سر پہ سوار تھا یاروحسن پر میں نثار تھا یارو
ٹوٹتا ہے بدن جو اترا ہےعشق تھا یا بخار تھا