مقرر

شہزاد

@shah__zad987

40
پیش کردہ کلام
43
محفلوں میں شرکت
شہزاد کی آواز میں

محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو

کلام: مضطر خیرآبادی · محفل: جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی · 2026-05-01

«محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی» میں 1 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لومرے دل پہ گزرتی کیا ہے اس کا بھی مزا لے لو

جو کہتا ہوں جفائیں چھوڑ دو عہد وفا لے لوتو کہتے ہیں خدا سے تم مقدر دوسرا لے لو

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 زندگانی حسین ہے تو سہی Zindagani haseen hai to sahi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  2. 02 عشق سر پہ سوار تھا یارو Ishq sar pe sawar tha yaaro زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 04 بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے Begana-e-wafa tera shewa hi aur hai مبارک عظیم آبادی
  4. 05 اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں Ab to woh maa'il-e-jafa bhi nahin ناشاد کانپوری
  5. 06 مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں Meri aarzoo, mera muddaa koi aur us ke siwa nahin کامل شطاری آواز میں دستیاب
  6. 07 منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی Munh na dhaanko ab to soorat dekh li رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 08 تن دا ماس کھوائی رکھنا سوکھا نہیں Tan da maas khowayi rakhna sookha nahin پنجابی شعرا
  8. 09 تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں Tujh mein kitna gum hoon aur kitna nazar aata hoon main شاہین عباس آواز میں دستیاب