5 اشعار

محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو

Mohabbat ghair se ki hai to mera muddaa le lo

محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو

«محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو» مضطر خیرآبادی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو بگڑ گیاوہ نصیب ہوں جو اجڑگیا وہ دیارہوں مضطر خیرآبادی» میں 1 مئی 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 42 سیکنڈ ہے۔

محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لومرے دل پہ گزرتی کیا ہے اس کا بھی مزا لے لو

جو کہتا ہوں جفائیں چھوڑ دو عہد وفا لے لوتو کہتے ہیں خدا سے تم مقدر دوسرا لے لو

جو پوچھا چھوڑ دوں الفت تو بولے اس سے کیا ہوگاجو پوچھا اپنا دل لے لوں تو جھنجھلا کر کہا لے لو

جناب خضر راہ عشق میں لڑنے سے کیا حاصلمیں اپنا راستہ لے لوں تم اپنا راستہ لے لو

شب فرقت جو درد دل سے مضطرؔ دم الجھتا ہےقضا کہتی ہے گھبراؤ نہیں مجھ سے دوا لے لو

— مضطر خیرآبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں