سجاد رضا کی آواز میں
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04
«دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں
مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کییہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں