مقرر

سجاد رضا

@srazaansari

37
پیش کردہ کلام
57
محفلوں میں شرکت
سجاد رضا کی آواز میں

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

کلام: اکبر اللہ آبادی · محفل: ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی) · 2025-12-04

«دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں

مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کییہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ورھیاں خود نوں آپے مل نہ پایا میں Varhiyaan khud nu aape mil na paya main سجاد رضا آواز میں دستیاب
  2. 02 دُکھاں چار چُفیرے گھیرا پانا اے Dukhan chaar chuphairay ghera pana ae سجاد رضا آواز میں دستیاب
  3. 03 مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن Mat ghazab kar chhod de ghussa sajan آبرو شاہ مبارک آواز میں دستیاب
  4. 04 نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی Nahin ghar mein falak ke dil-kushai آبرو شاہ مبارک آواز میں دستیاب
  5. 05 دل کی آنکھوں کو میری وا کر دے Dil ki aankhon ko meri wa kar de سجاد رضا آواز میں دستیاب
  6. 06 دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوں Dil mein yaad-e-but-e-be-pīr liye baiṭhā huun آرزو لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 07 فائدہ کیا ہے زمانے میں خسارہ کیا ہے Fayda kya hai zamane mein khasara kya hai دلاور علی آزر آواز میں دستیاب
  8. 08 درون خواب نیا اک جہاں نکلتا ہے Daroon khwab naya ek jahan nikalta hai دلاور علی آزر آواز میں دستیاب