دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
کلام: اکبر اللہ آبادی
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں
مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کییہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)
مہمان شاعر: اکبر اللہ آبادی
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں
مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کییہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں