7 اشعار

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

Dil mayoos mein woh shorishein barpa nahin hoti hain

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں

«دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں» اکبر اللہ آبادی کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام (اکبر الہ آبادی)» میں 4 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیںامیدیں اس قدر ٹوٹیں کہ اب پیدا نہیں ہوتیں

مری بیتابیاں بھی جزو ہیں اک میری ہستی کییہ ظاہر ہے کہ موجیں خارج از دریا نہیں ہوتیں

وہی پریاں ہیں اب بھی راجا اندر کے اکھاڑے میںمگر شہزادۂ گلفام پر شیدا نہیں ہوتیں

یہاں کی عورتوں کو علم کی پروا نہیں بے شکمگر یہ شوہروں سے اپنے بے پروا نہیں ہوتیں

تعلق دل کا کیا باقی میں رکھوں بزم دنیا سےوہ دل کش صورتیں اب انجمن آرا نہیں ہوتیں

ہوا ہوں اس قدر افسردہ رنگ باغ ہستی سےہوائیں فصل گل کی بھی نشاط افزا نہیں ہوتیں

قضا کے سامنے بے کار ہوتے ہیں حواس اکبرؔکھلی ہوتی ہیں گو آنکھیں مگر بینا نہیں ہوتیں

— اکبر اللہ آبادی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں