واجد علی کی آواز میں
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
کلام: مظفر وارثی · محفل: شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی) · 2025-12-18
«ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہےاس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرحاب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے