5 اشعار

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

Hum karein baat daleelon se to radd hoti hai

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے

«ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے» مظفر وارثی کا کلام ہے، جسے نایاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)» میں 18 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہےاس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے

سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرحاب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے

جس کی گردن میں ہے پھندا وہی انسان بڑاسولیوں سے یہاں پیمائش قد ہوتی ہے

شعبدہ گر بھی پہنتے ہیں خطیبوں کا لباسبولتا جہل ہے بد نام خرد ہوتی ہے

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعجاز سخنظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے

— مظفر وارثی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں