یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
کلام: ظفراقبال
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلطجانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو
ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )
مہمان شاعر: کشور ناہید
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلطجانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو
یہ حوصلہ تجھے مہتاب جاں ہوا کیسےکہ خود کو سائے سے منہا کیا بتا کیسے
نظر تو کیا کہ یہ مینائے دل بھی خالی ہےلگے گا شہر میں بازار خوں بہا کیسے