ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہے
کلام: مظفر وارثی
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہےاس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرحاب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
شوق جینے کا ہے مجھکو مگر اتنا بھی نہیں (مظفر وارثی)
مہمان شاعر: مظفر وارثی
ہم کریں بات دلیلوں سے تو رد ہوتی ہےاس کے ہونٹوں کی خموشی بھی سند ہوتی ہے
سانس لیتے ہوئے انساں بھی ہیں لاشوں کی طرحاب دھڑکتے ہوئے دل کی بھی لحد ہوتی ہے
جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گاجہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا
لباس غیر نہ ہوگا بدن پہ جب اپنےتو کوئی سانپ نہ پھر آستیں سے نکلے گا