واجد علی کی آواز میں
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
کلام: ظفراقبال · محفل: ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید ) · 2025-12-17
«یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلطجانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو