9 اشعار

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو

Yeh bhi mumkin hai ke aankhein hon tamasha hi na ho

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو

«یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے واجد علی نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہمیں نےپیار مانگاتھا،ہمیں نے داغ پائے ہیں (کشور ناہید )» میں 17 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو

کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلطجانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو

ہو کسی طرح سے مخصوص ہمارے ہی لیےیعنی جتنا نظر آتا ہے وہ اتنا ہی نہ ہو

ٹکٹکی باندھ کے میں دیکھ رہا ہوں جس کویہ بھی ہو سکتا ہے وہ سامنے بیٹھا ہی نہ ہو

وہ کوئی اور ہو جو ساتھ کسی اور کے ہےاصل میں تو وہ ابھی لوٹ کے آیا ہی نہ ہو

خواب در خواب چلا کرتا ہے آنکھوں میں جو شخصڈھونڈنے نکلیں اسے اور کہیں رہتا ہی نہ ہو

چمک اٹھا ہو ابھی روئے بیاباں اک دماور یہ نظارہ کسی اور نے دیکھا ہی نہ ہو

کیفیت ہی کوئی پانی نے بدل لی ہو کہیںہم جسے دشت سمجھتے ہیں وہ دریا ہی نہ ہو

مسئلہ اتنا بھی آسان نہیں ہے کہ ظفرؔاپنے نزدیک جو سیدھا ہے وہ الٹا ہی نہ ہو

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں