زاہدحسین کی آواز میں
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
کلام: کیف بھوپالی · محفل: داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی · 2026-01-13
«داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملےہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے
ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہےوہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے