داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے
کلام: کیف بھوپالی
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملےہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے
ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہےوہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے
داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی
مہمان شاعر: کیف احمد صدیقی
داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملےہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے
ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہےوہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئیپھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئی
زندگی باپ کی مانند سزا دیتی ہےرحم دل ماں کی طرح موت بچانے آئی