8 اشعار

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

Daagh duniya ne diye zakhm zamane se mile

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

«داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملےہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے

ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہےوہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے

خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتاکیا ملے آپ جو لوگوں کے ملانے سے ملے

ماں کی آغوش میں کل موت کی آغوش میں آجہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے

کبھی لکھوانے گئے خط کبھی پڑھوانے گئےہم حسینوں سے اسی حیلے بہانے سے ملے

اک نیا زخم ملا ایک نئی عمر ملیجب کسی شہر میں کچھ یار پرانے سے ملے

ایک ہم ہی نہیں پھرتے ہیں لیے قصۂ غمان کے خاموش لبوں پر بھی فسانے سے ملے

کیسے مانیں کہ انہیں بھول گیا تو اے کیفؔان کے خط آج ہمیں تیرے سرہانے سے ملے

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں