زاہدحسین کی آواز میں
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی
کلام: کیف بھوپالی · محفل: داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی · 2026-01-13
«در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔
در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئیپھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئی
زندگی باپ کی مانند سزا دیتی ہےرحم دل ماں کی طرح موت بچانے آئی