6 اشعار

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی

Dar-o-deewar pe shaklein si banane aayi

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی

«در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی» کیف بھوپالی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «داغ دنیا نے دئیے زخم زمانے سے ملے کیف بھوپالی» میں 13 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئیپھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئی

زندگی باپ کی مانند سزا دیتی ہےرحم دل ماں کی طرح موت بچانے آئی

آج کل پھر دل برباد کی باتیں ہیں وہیہم تو سمجھے تھے کہ کچھ عقل ٹھکانے آئی

دل میں آہٹ سی ہوئی روح میں دستک گونجیکس کی خوش بو یہ مجھے میرے سرہانے آئی

میں نے جب پہلے پہل اپنا وطن چھوڑا تھادور تک مجھ کو اک آواز بلانے آئی

تیری مانند تری یاد بھی ظالم نکلیجب بھی آئی ہے مرا دل ہی دکھانے آئی

— کیف بھوپالی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں