مقرر

زاہدحسین

@zahidhussa69226

49
پیش کردہ کلام
36
محفلوں میں شرکت
زاہدحسین کی آواز میں

جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں

کلام: محسن زیدی · محفل: بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی · 2026-01-18

«جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤںاتنا ہی ٹوٹ کے اندر سے بکھرتا جاؤں

زندگی جیسے کلنڈر پہ بدلتی تاریخمیں شب و روز کے مانند گزرتا جاؤں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 میں بچھڑ کر تجھ سے تیری روح کے پیکر میں ہوں Main bichhad kar tujh se teri rooh ke paikar mein hoon آزاد گلاٹی آواز میں دستیاب
  2. 02 کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں کہ مجھ کو تیری تلاش کیوں ہے Kabhi kabhi main yeh sochta hoon ke mujh ko teri talash kyun hai جاوید اختر آواز میں دستیاب
  3. 03 نہ تمہارا حسن جواں رہا نہ ہمارا عشق جواں رہا Na tumhara husn jawan raha na hamara ishq jawan raha اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  4. 04 دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا Dil-e-mahjoor ko taskeen ka samaan nah mila اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  5. 05 بیتے ہوئے دن خود کو جب دہراتے ہیں Beete hue din khud ko jab dohrate hain وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  6. 06 تقدیر کا شکوہ بے معنی جینا ہی تجھے منظور نہیں Taqdeer ka shikwa be-ma'ani jeena hi tujhe manzoor nahin مجروح سلطانپوری آواز میں دستیاب
  7. 07 ‏ظاہر عبادت وکھری ہوندی عشق مصلے وکھرے نے۔ Zahir ibadat wakhri hondi ishq musalle wakhre ne. پنجابی شعرا آواز میں دستیاب
  8. 08 ہنسو تو ساتھ ہنسے گی دنیا بیٹھ اکیلے رونا ہوگا Hanso to saath hansegi duniya baith akele rona hoga میراجی آواز میں دستیاب