زاہدحسین کی آواز میں
جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں
کلام: محسن زیدی · محفل: بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی · 2026-01-18
«جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔
جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤںاتنا ہی ٹوٹ کے اندر سے بکھرتا جاؤں
زندگی جیسے کلنڈر پہ بدلتی تاریخمیں شب و روز کے مانند گزرتا جاؤں