7 اشعار

جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں

Jitna tehzeeb-e-badan se main sanwarta jaaun

جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں

«جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں» محسن زیدی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی» میں 18 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤںاتنا ہی ٹوٹ کے اندر سے بکھرتا جاؤں

زندگی جیسے کلنڈر پہ بدلتی تاریخمیں شب و روز کے مانند گزرتا جاؤں

کیا پتا خوابوں کی تعبیر ملے یا نہ ملےکسی کاغذ پہ انہیں نوٹ ہی کرتا جاؤں

صحن گلشن سے وہ اک آخری رشتہ بھی گیاخشک پتوں کی طرح اب تو بکھرتا جاؤں

تہ ظلمات ان آنکھوں کے دیے جلتے جائیںزینہ زینہ میں اجالوں میں اترتا جاؤں

گرد دامن کی طرح مجھ کو اڑانے والےعکس بن کر تری آنکھوں میں ٹھہرتا جاؤں

کتنے گھبرائے ہوئے ہیں مرے قاتل محسنؔآستینوں پہ لہو بن کے ابھرتا جاؤں

— محسن زیدی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں