جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤں
کلام: محسن زیدی
جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤںاتنا ہی ٹوٹ کے اندر سے بکھرتا جاؤں
زندگی جیسے کلنڈر پہ بدلتی تاریخمیں شب و روز کے مانند گزرتا جاؤں
بچھڑنے والوں میں ہم جس سے آشنا کم تھے محسن زیدی
مہمان شاعر: محسن زیدی
جتنا تہذیب بدن سے میں سنورتا جاؤںاتنا ہی ٹوٹ کے اندر سے بکھرتا جاؤں
زندگی جیسے کلنڈر پہ بدلتی تاریخمیں شب و روز کے مانند گزرتا جاؤں
رستے میں کوئی آ کے عناں گیر ہو نہ جائےیہ جذبۂ جنوں مرا زنجیر ہو نہ جائے
اس کو جو اب کسی سے شکایت نہیں رہیپھر کیوں وہ سب سے مل کے بغل گیر ہو نہ جائے
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرحدل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح
راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہےجل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح