زاہدحسین کی آواز میں
وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
کلام: باقی صدیقی · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25
«وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔
وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں
صحبت شیشہ گراں ہے انکارسنگ آئینہ بنا ہے کہ نہیں