11 اشعار

وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں

Waqt raste mein khada hai ke nahin

وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں

«وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے زاہدحسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 48 سیکنڈ ہے۔

وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں

صحبت شیشہ گراں ہے انکارسنگ آئینہ بنا ہے کہ نہیں

ہر کرن وقت سحر کہتی ہےروزن دل کوئی وا ہے کہ نہیں

رنگ ہر بات میں بھرنے والوقصہ کچھ آگے بڑھا ہے کہ نہیں

زندگی جرم بنی جاتی ہےجرم کی کوئی سزا ہے کہ نہیں

دوست ہر عیب چھپا لیتے ہیںکوئی دشمن بھی ترا ہے کہ نہیں

زخم دل منزل جاں تک آئےسنگ رہ ساتھ چلا ہے کہ نہیں

کھو گئے راہ کے سناٹے میںاب کوئی دل کی صدا ہے کہ نہیں

ہم ترسنے لگے بوئے گل کوکہیں گلشن میں صبا ہے کہ نہیں

حکم حاکم ہے کہ خاموش رہوبولو اب کوئی گلہ ہے کہ نہیں

چپ تو ہو جاتے ہیں لیکن باقیؔاس میں بھی اپنا بھلا ہے کہ نہیں

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں