وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
کلام: باقی صدیقی
وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں
صحبت شیشہ گراں ہے انکارسنگ آئینہ بنا ہے کہ نہیں
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیںدل سے اب پوچھ خدا ہے کہ نہیں
صحبت شیشہ گراں ہے انکارسنگ آئینہ بنا ہے کہ نہیں
صبح کا بھید ملا کیا ہم کولگ گیا رات کا دھڑکا ہم کو
شوق نظارا کا پردہ اٹھانظر آنے لگی دنیا ہم کو
آج یوں موسم نے دی جشن محبت کی خبرپھوٹ کر رونے لگے ہیں ، میں محبت اور تم
ہم نے جونہی کر لیا محسوس منزل ہے قریبراستے کھونے لگے ہیں میں ، محبت اور تم