12 اشعار

خواب ٹوٹے اپنے تھوڑا اور رونے دو

Khwab toote apne thoda aur rone do

خواب ٹوٹے اپنے تھوڑا اور رونے دو

«خواب ٹوٹے اپنے تھوڑا اور رونے دو» ایمن ساغر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)» میں 21 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

خواب ٹوٹے اپنے تھوڑا اور رونے دوہجر میں ہیں غم پرانے تو ہونے دو

غم ہی غم ہیں ہجر کا موسم ٹلنے دوعشق کی گرمی ہے یخ بستہ گھلنے دو

اگ دبی ہے صدیوں سے ضیاء کی یہ جونور ہے یہ کشف کا پردے ہٹنے دو

ہے سفر دیوانگی رب کے عشق کاجنگلوں میں زندگی پنہا ں کر نے دو

دل کے صحرا میں چھپی ہے جو روشنیسرخی دل کو تھوڑا اور سنساں چلنے دو

دشتِ تنہائی میں یادوں کی آہٹیںگونجتی ہیں تم ابھی شدت بڑھنے دو

زمانے کی بے رحمی اور دھوپ بھیزندگی کچھ پل تپش میں اور جلنے دو

ان گنت موجوں میں اتری ہے زندگیلہریں ہیں ساحل پہ کچھ پل تو جینے دو

ہم سفر جب ساتھ چلنے لگ پڑیںہاتھ پکڑو راز دل تو کہنے دو

راستے گرچہ نہیں ہیں آساں یہرابطے مشکل نہیں یہ ہونے دو

چاہتوں کے رنگ سارے بکھر گئےالفتوں کی داستانیں تو لکھنے دو

گھپ اندھیرا ہے یوں ایمن اس زیست میںروشنی آنے دو رستہ تو بننے دو

— ایمن ساغر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں