بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گا
بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گامیں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا
نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگےمجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا
ضمیروقت میں پیوست ہوں میں پھانس کی صورت (ظفر گورکھپوری)
مہمان شاعر: ظفرگورکھپوری
بدن کجلا گیا تو دل کی تابانی سے نکلوں گامیں سورج بن کے اک دن اپنی پیشانی سے نکلوں گا
نظر آ جاؤں گا میں آنسوؤں میں جب بھی روؤگےمجھے مٹی کیا تم نے تو میں پانی سے نکلوں گا
شہر میں دل کے سروکار کہیں چلتے ہیںدشت اپنوں کو سمجھتا ہے‘ وہیں چلتے ہیں
خود جہاں اپنی حرارت سے فروزاں ہوں چراغوہاں احکام ہواؤں کے نہیں چلتے ہیں
نظر آتا نہیں لیکن اشارہ کر رہا ہےکوئی تو ہے جو میرا کام سارا کر رہا ہے
اس آبادی میں کچھ ہوں گے جنہیں پیاری ہے دنیابڑا حصہ تو مجبوراً گوارا کر رہا ہے
خواب ٹوٹے اپنے تھوڑا اور رونے دوہجر میں ہیں غم پرانے تو ہونے دو
غم ہی غم ہیں ہجر کا موسم ٹلنے دوعشق کی گرمی ہے یخ بستہ گھلنے دو
ساحرہ!بھوک کتنی بھیانک ہوا کرتی ہے
میری معصوم اے صندلیں، باؤلی ساحرہ!ضبط کی کوئی حد بھی اگر ہو تو شاید