10 اشعار

آپ کا اعتبار کون کرے

Aap ka e'tibar kaun kare

آپ کا اعتبار کون کرے

«آپ کا اعتبار کون کرے» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

آپ کا اعتبار کون کرےروز کا انتظار کون کرے

ذکر مہر و وفا تو ہم کرتےپر تمہیں شرمسار کون کرے

ہو جو اس چشم مست سے بے خودپھر اسے ہوشیار کون کرے

تم تو ہو جان اک زمانے کیجان تم پر نثار کون کرے

آفت روزگار جب تم ہوشکوۂ روزگار کون کرے

اپنی تسبیح رہنے دے زاہددانہ دانہ شمار کون کرے

ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤںموت کا انتظار کون کرے

آنکھ ہے ترک زلف ہے صیاددیکھیں دل کا شکار کون کرے

وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیںتجھ کو امیدوار کون کرے

داغؔ کی شکل دیکھ کر بولےایسی صورت کو پیار کون کرے

— داغ دہلوی