9 اشعار

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

Baat meri kabhi suni hi nahin

بات میری کبھی سنی ہی نہیں

«بات میری کبھی سنی ہی نہیں» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

بات میری کبھی سنی ہی نہیںجانتے وہ بری بھلی ہی نہیں

دل لگی ان کی دل لگی ہی نہیںرنج بھی ہے فقط ہنسی ہی نہیں

لطف مے تجھ سے کیا کہوں زاہدہائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں

اڑ گئی یوں وفا زمانے سےکبھی گویا کسی میں تھی ہی نہیں

جان کیا دوں کہ جانتا ہوں میںتم نے یہ چیز لے کے دی ہی نہیں

ہم تو دشمن کو دوست کر لیتےپر کریں کیا تری خوشی ہی نہیں

ہم تری آرزو پہ جیتے ہیںیہ نہیں ہے تو زندگی ہی نہیں

دل لگی دل لگی نہیں ناصحتیرے دل کو ابھی لگی ہی نہیں

داغؔ کیوں تم کو بے وفا کہتاوہ شکایت کا آدمی ہی نہیں

— داغ دہلوی