9 اشعار

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

Khatir se ya lihaz se main maan to gaya

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا

«خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا» داغ دہلوی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 15 سیکنڈ ہے۔

خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیاجھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا

دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیںالٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا

ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میںسنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا

کیا آئے راحت آئی جو کنج مزار میںوہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا

دیکھا ہے بت کدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا

افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیںلیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا

گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکرمجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا

بزم عدو میں صورت پروانہ دل مراگو رشک سے جلا ترے قربان تو گیا

ہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکےاب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا

— داغ دہلوی