49 اشعار

ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئی

Ek aashiq se sar-e-raah mulaqaat hui

ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئی

«ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئی» دانش عزیز کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 5 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئیبڑی تفصیل سے پھر اُس سے مِری بات ہوئی

میں نے پوچھا تِری پوشاک یہ دھانی کیوں ہےچشمِ ویراں میں چُھپا درد کا پانی کیوں ہے

میں نے پوچھا کہ یہ گیسو ہیں پریشاں کیونکرچاک کر رکھا ہے تُو نے یہ گریباں کیونکر

کیوں ہے چہرے پہ یہ صدیوں کی مسافت صاحب!الجھی الجھی سی ہے کیوں تیری طبیعت صاحب!

تیری پوشاک کی شکنوں میں شکایت کیوں ہےتیری آنکھوں میں یہ دریاؤں سی وحشت کیوں ہے

پاؤں زخمی ہیں زمیں پر بھی نہیں ٹکتے ہیںمَیں سمجھتا ہوں تِرے پاؤں میں بھی چھالے ہیں

آنکھ چپ چاپ ہے اشکوں سے بہت بھاری ہےایسا لگتا ہے چھلک جانے کی تیاری ہے

ہونٹ لگتا ہے کہ صدیوں سے کسی آس میں ہیںاُن کی خاموشی سے لگتا ہے بہت پیاس میں ہیں

میری باتوں کا تسلسل تھا کہ رُکتا ہی نہ تھاایسا لگتا تھا کہ شاید اسے سنتا ہی نہ تھا

وہ بہت دیر خموشی سے مجھے سنتا رہاکبھی خود کو کبھی چہرے کو مِرے تکتا رہا

پھر ہنسا اتنا ہنسا اتنا کہ ہنستا ہی گیامیں ڈرا اتنا ڈرا اتنا کہ ڈرتا ہی گیا

پھر مجھے پیار سے پہلو میں بٹھایا اس نےبڑی تفصیل سے یوں عشق پڑھایا اس نے

تجھ کو حیرت مِرے گیسو مِری پوشاک سے ہےزخمی پیروں سے ہے اور سر میں پڑی خاک سے ہے

تجھ کو بتلاتا ہوں ایسا مجھے کیا لاحق ہےتجھ سے اس لمحہ مخاطب ہے جو، اِک عاشق ہے

عشق کا نام تو تُو نے بھی سنا ہو شایدکیسے ہوتا ہے یہ کم بخت پڑھا ہو شاید

عشق ہستی بھی ہے مستی بھی ہے پندار بھی ہےعشق آنسو بھی ہے نوحہ بھی ہے آزار بھی ہے

عشق پاگل ہے دوانہ بھی ہے اُستاد بھی ہےعشق گریہ بھی تمنا بھی ہے فریاد بھی ہے

عشق بستی بھی ہے جنگل بھی ہے زندان بھی ہےعشق مذہب ہے عقیدہ بھی ہے ایمان بھی ہے

عشق مکتب بھی ہے، استاد بھی،اُسلوب بھی ہےعشق یوسفؑ بھی ہے عیسؑیٰ بھی ہے یعقوبؑ بھی ہے

عشق یونسؑ بھی ہے منصور بھی تبریز بھی ہےعشق کومل سا تبسم بھی جنوں خیز بھی ہے

عشق حمزہؓ بھی علیؓ بھی یہ بلالِ حبشیاور یہ مکہّ کا ہے قریہ یہی طائف کی گلی

عشق اصغرؓ بھی ہے اکبرؓ بھی ہے حسنینؑ بھی ہےعشق زینبؓ بھی ہے عباسؓ بھی ہے زینؓ بھی ہے

عشق آدمؑ بھی ہے ادریسؑ، خلیلؑ اللہ بھیعشق کے داعی رہے موسیٰ کلیم اللہ بھی

عشق ہی نعرہءِ توحید ہے اسلام بھی ہےعشق آغاز بھی دوران بھی انجام بھی ہے

عشق جو عین بھی ہے شین بھی ہے قاف بھی ہےعشق دعویٰ بھی ہے منصف بھی ہے انصاف بھی ہے

عشق ظالم ہے جو بازار میں بِکواتا ہےبیچ بازار کے عاشق کو یہ نچواتا ہے

عشق نے چیر کے عاشق کو بھی دو لخت کیاجب بھی چاہا کسی بد بخت کو خوش بخت کیا

یہ تو معمولی سی لغزش پہ سزا دیتا ہےکر کے مدہوش یہ سسی کو سُلا دیتا ہے

عشق پاگل ہے دُعاؤں سے اُلجھ پڑتا ہےاتنا خود سر ہے خداؤں سے اُلجھ پڑتا ہے

عشق آتش سے نہ سولی سے کبھی ڈرتا ہےعشق دُنیا کے خداؤں سے نہیں مرتا ہے

پردے اک اور حقیقت سے اٹھانے ہوں گےحضرتِ عشق کے اوصاف بتانے ہوں گے

اِس نے جنگل میں بھی بستی کا نظارہ دیکھااِس نے ہر روز محبت کا شمارہ دیکھا

اس نے بپھری ہوئی موجوں سے لڑائی کی ہےجو بھی پوشیدہ تھی اس کو وہ دکھائی دی ہے

اس نے جلتی ہوئی آتش میں قدم رکھا ہےزہرِ قاتل کا بھی ہنس ہنس کے مزا چکھا ہے

اس نے تپتی ہوئی آتش کو زباں پر رکھااس نے ہنستے ہوئے ہر ظلم کو جاں پر رکھا

حُسنِ لیلیٰ نے محبت کی زیارت کی ہےاِس کی فرہاد نے مجنوں نے وضاحت کی ہے

حُسنِ یوسفؑ میں ہے پوشیدہ جوانی اس کینوعِ انسان سے پہلے تھی کہانی اس کی

اس کو مارے ہیں زمانے نے اٹھا کر پتھراس نے رکھے ہیں وہ سینے سے لگا کر پتھر

اس کے بازو کبھی گردن کبھی سر کٹتا ہےپھر بھی محبوب کے مقصد سے نہیں ہٹتا ہے

مذہبِ عشق کا آئین انوکھا دیکھااصل کے نام پہ ہوتا یہاں دھوکا دیکھا

عشق عاشق سے بغاوت کا عقیدہ مانگےعشق عاشق سے محبت کا وظیفہ مانگے

ان کی پوشاک کی شکنوں پہ نہ جاؤ صاحب!وحشتِ چشم کے سمجھو گے نہ بھاؤ صاحب!

ان کی میراث ہے پاؤں کے ابلتے چھالےبڑے مضبوط ہیں ہونٹوں پہ لگائے تالے

جیسے اس عشق کی تعریف نہیں ممکن ہےایسے عاشق کی بھی توصیف نہیں ممکن ہے

زلف و رخسار کے رسیا کو نہ عاشق کہناجب بھی کہنا ہے اُسے عشق کا فاسق کہنا

جو بھی بتلایا محبت سے سنبھالے رکھنایاد یہ قصّے یہ حکمت یہ حوالے رکھنا

آج کے واسطے اتنی ہی نصیحت ہے بہتعشق کی راہ میں صدمے ہیں صعوبت ہے بہت

میں یہ بولا کہ بتا دو تو چلا جاؤں گاکیا کبھی عشق کے عُقدے کو سمجھ پاؤں گا

کہہ اٹھا فال نکالی ہے تِرا نام بھی ہےحلقہ ءِ عشق میں دانشؔ جی تِرا کام بھی ہے

— دانش عزیز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں