ایک دوست کی خوش مذاقی پر
کلام: اسرار الحق مجاز
ہو نہیں سکتا تری اس "خوش مذاقی" کا جوابشام کا دلکش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب
رکھ بھی دے اب اس کتابِ خشک کو بالائے طاقاُڑ رہا ہے رنگ و بُو کی بزم میں تیرا مذاق
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)
مہمان شاعر: اسرار الحق مجاز
ہو نہیں سکتا تری اس "خوش مذاقی" کا جوابشام کا دلکش سماں اور تیرے ہاتھوں میں کتاب
رکھ بھی دے اب اس کتابِ خشک کو بالائے طاقاُڑ رہا ہے رنگ و بُو کی بزم میں تیرا مذاق
رہ شوق سے اب ہٹا چاہتا ہوںکشش حسن کی دیکھنا چاہتا ہوں
کوئی دل سا درد آشنا چاہتا ہوںرہ عشق میں رہنما چاہتا ہوں
ایک عاشق سے سرِ راہ ملاقات ہوئیبڑی تفصیل سے پھر اُس سے مِری بات ہوئی
میں نے پوچھا تِری پوشاک یہ دھانی کیوں ہےچشمِ ویراں میں چُھپا درد کا پانی کیوں ہے