26 اشعار

وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے

Woh call ab tak kati nahi hai

وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے

«وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے» میثم علی آغا کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں» میں 30 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 23 سیکنڈ ہے۔

کئی دنوں سےمجھے وہ میسج میں لکھ رہی تھی

جنابِ عالیحضورِ والا

بس اِک منٹ مجھ سے بات کر لیںمیں اِک منٹ سے اگر تجاوز کروں

تو بے شک نہ کال سننامیں زیرِ لب مُسکرا کے لکھتا

بہت بزی ہوںابھی نئی نظم ہو رہی ہے

وہ اگلے میسج میں پھر یہ لکھتیسسکتی روتی بلکتی نظموں کے عمدہ شاعر

تم اپنی نظمیں تراشو لیکنکبھی تو میری طرف بھی دیکھو

کبھی تو مجھ سے بھی بات کر لوبس اِک منٹ میری بات سُن لو

میں ہنس کے لکھتافضول لڑکی

بہت بزی ہوںبس اِک منٹ ہی تو ہے نہیں ناں

وہ کئی دنوں تک خموش رہتیپھر ایک دن میں نے اُس کی حالت پہ رحم کھا کر

جواب لکھابس اِک منٹ ہے

اور اِک منٹ سے زیادہ بالکل نہیں سنوں گاتو اس نے اوکے لکھا اور اِک دم سے کال کر دی

میں کال پِک کر کے چُپ کھڑا تھاوہ گہرا لمبا سا سانس لے کر

اُداس لہجے میں بولی سر جیمیں جانتی ہوں کہ اِک منٹ ہے

اور اِک منٹ میںمیں اپنے اندر کی ساری باتیں کسی بھی صورت نہ کہہ سکوں گی

سلگتی ہجرت زدہ رُتوں کو اُداس نظموں میں لکھنے والےعظیم شاعر

خُدا کی دھرتی پہ رہنے والےاُداس لوگوں کا دُکھ بھی لکھنا

کبھی محبت میں جلتے لوگوں کا دُکھ سمجھناکبھی کسی نظم میں بتانا جنہیں تمہاری رفاقتیں ہی کبھی میسر نہیں ہوئی ہیں

جنہیں تمہاری محبتیں ہی کھبی میسر نہیں ہوئی ہیںکبھی جو محرومیوں کے موسم بہت ستائیں تو کیا کریں وہ

کبھی جو تنہائیوں کی شامیں بہت رُلائیں تو کیا کریں وہابھی تو آدھا منٹ پڑا تھا

مگر وہ لائن سے ہٹ چکی تھیوہ اِک منٹ کی جو کال تھی ناں

وہ تیس سیکنڈ میں کٹ چکی تھیمیں کتنے برسوں سے اگلا آدھا منٹ گزرنے کا منتظر ہوں

وہ نرم لیکن اُداس لہجے میں بات کرتیاُداس لڑکی مِری سماعت کے

اَدھ کھلے دَر سے یونہی اب تک لگی ہوئی ہےہٹی نہیں ہے

بہت سے سالوں سے چل رہی ہےوہ کال اب تک کٹی نہیں ہے

— میثم علی آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں