شاعر

میر تقی میر

Mir Taqi Mir

50
منتخب کلام
50
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

اردو شاعری کے عظیم شاعر میر محمد تقی میرؔ 1723 میں آگرہ میں پیدا ہوئے اور والد میر متقی کی علمی و صوفیانہ تربیت میں پرورش پائی۔ بچپن ہی میں والد کے انتقال اور بعد میں دہلی کی تباہیوں نے ان کے دل و دماغ پر گہرے نقوش چھوڑے۔ تعلیم میں فارسی، عربی اور منطق کے علوم میں مہارت حاصل کی، اور عشق و تصوف کے اسرار سے باخبر ہوئے۔ میرؔ کی ازدواجی زندگی بھی دکھ بھری رہی: جوانی میں شادی ہوئی مگر بیوی اور بچی کی وفات نے ان کی زندگی کو دائمی غم میں بدل دیا۔ تنگدستی کے باوجود وہ اکثر دہلی کے درباروں سے وظیفے لیتے مگر خودداری اور آزاد مزاجی کی وجہ سے کسی دربار کا مستقل حصہ نہ بنے۔ لکھنؤ میں قیام کے دوران ان کے پاس مالی وسائل نہ ہونے کے برابر تھے، مگر نواب آصف الدولہ کی طرف سے کبھی کبھار مدد ملتی رہی۔ اس دوران ان کے محلے میں ایک نوجوان لڑکی اکثر انہیں سلام کیا کرتی تھی۔ وہ کہا کرتے تھے یہ بچی مجھے میری بیٹی یاد دلا دیتی ہے لیکن وہ لڑکی شادی کے بعد دوسرے شہر چلی گئی ، مگر وہ شہر سے چلی گئی، اور میرؔ نے کئی دن تک کسی سے بات نہیں کی ۔ بڑھاپے میں میرؔ سخت کسمپرسی میں زندگی گزارتے ہوئے تنہائی اور یادوں کے ساتھ تھے۔ آخری ایام میں میرؔ کے پاس اپنا بستر تک نہ تھا — لیکن دل میں دہلی کی عظمت اور اپنے فن پر فخر باقی رہا، لکھنؤ کے شعرا انہیں طنزاً “دہلی کا پرانا شاعر” کہتے تھے، مگر وقت نے انہی کو اُردو غزل کا امام ثابت کیا,

بعد میں خدائے سخن اور امام غزل جیسے القابات نے انہی شعرا سےانہیں ممتاز کر دیا

منتخب اشعار

زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت

دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت

پورا کلام ‹

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

اب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں

پورا کلام ‹
  1. 01 زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت Zakhm jhele dagh bhi khaye bahut آواز میں دستیاب
  2. 02 یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں Yaro mujhe muaf rakho main nashe mein hoon آواز میں دستیاب
  3. 03 اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا Us ka khayal chashm se shab khwab le gaya آواز میں دستیاب
  4. 04 عمر بھر ہم رہے شرابی سے Umar bhar ham rahe sharabi se آواز میں دستیاب
  5. 05 الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا Ulti ho gayin sab tadbeerein kuchh na dawa ne kaam kiya آواز میں دستیاب
  6. 06 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا Tha musta'ar husn se us ke jo noor tha آواز میں دستیاب