تعارف
پروین اُمِّ مشتاق اردو کی معروف شاعرہ تھیں جن کا تخلص پروین تھا، جبکہ کنیت اُمِّ مشتاق اور لقب بڑی بیگم تھا۔ وہ 11 دسمبر 1866ء کو دہلی میں ایک معزز، علمی اور ادبی خاندان میں پیدا ہوئیں، جہاں گھر کے ماحول نے ان کی فکری اور ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی علمی فضا کے باعث انہوں نے عربی اور فارسی کی تعلیم گھر ہی میں حاصل کی، جس سے ان کی زبان میں پختگی، بیان میں سلاست اور شاعری میں کلاسیکی رنگ پیدا ہوا۔ وہ ایسے زمانے میں سامنے آئیں جب خواتین کا ادبی میدان میں نمایاں ہونا آسان نہ تھا، مگر اپنی صلاحیت کے باعث انہوں نے اردو شاعری میں منفرد مقام حاصل کیا۔پروین اُمِّ مشتاق کی شادی جے پور کے ایک علمی و ادبی خاندان میں ہوئی، جہاں شادی کے بعد بھی ان کا شعری ذوق برقرار رہا اور انہوں نے شاعری کا سلسلہ جاری رکھا۔ اگرچہ وہ کسی سرکاری ملازمت یا رسمی پیشے سے وابستہ نہ تھیں، لیکن ان کی اصل شناخت ایک صاحبِ کمال شاعرہ کی تھی۔ انہوں نے غزل، قصیدہ، سلام، ترجیع بند اور تاریخِ وفات و پیدائش جیسی متعدد اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، جو ان کی ہمہ جہت ادبی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ان کے کلام میں فکری سنجیدگی، زبان کی شائستگی اور کلاسیکی روایت کی خوبصورت جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ان کے شعری سرمایے کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کا مجموعۂ کلام دیوانِ پروین کے نام سے شائع ہوا، جسے ان کے چھوٹے بیٹے نے 1915ء میں منظرِ عام پر لایا۔ یہ امر ان کی ادبی اہمیت کا واضح ثبوت ہے کہ اہلِ خاندان نے ان کے کلام کو محفوظ کر کے آئندہ نسلوں تک پہنچانے کا اہتمام کیا۔ ان کی زندگی کا ایک کم معروف مگر مستند واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دیوان کے ساتھ میر عثمان علی خان، حکمرانِ حیدرآباد دکن، کی شان میں ایک قصیدہ بھیجا جس پر انہیں خلعت اور پانچ سو روپے انعام میں عطا کیے گئے، جو اس دور میں بڑی قدر افزائی سمجھی جاتی تھی۔ ان کی درست تاریخِ وفات واضح طور پر دستیاب نہیں، البتہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ 1915ء سے قبل یا اسی زمانے کے آس پاس وفات پا چکی تھیں۔ پروین اُمِّ مشتاق اردو کی ان ممتاز ابتدائی شاعرات میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے خواتین کے ادبی اظہار کو وقار بخشا۔
منتخب اشعار
پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح
بلبل کے چہچہوں سے ہے ظاہر سرور صبح
بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں
محبت کے سبق برسوں رٹے ہیں
کلام
- 01 پھیلا ہوا ہے باغ میں ہر سمت نور صبح Phaila hua hai baagh mein har simt noor-e-subh آواز میں دستیاب
- 02 بہت دن درس الفت میں کٹے ہیں Bahut din dars-e-ulfat mein kaṭe haiñ آواز میں دستیاب
- 03 دل پکارا پھنس کے کوئے یار میں Dil pukārā phañs ke kū-e-yār mein آواز میں دستیاب
- 04 میرے لیے ہزار کرے اہتمام حرص Mere li.e hazār kare ihtimām-e-hirs آواز میں دستیاب
- 05 کھلایا پرتو رخسار نے کیا گل سمندر میں Khilāyā partav-e-ruḳhsār ne kyā gul samundar mein آواز میں دستیاب
- 06 غریب آدمی کو ٹھاٹ پادشاہی کا Gharīb ādmī ko ṭhāṭ bādshāhī kā آواز میں دستیاب