دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئی
کلام: عشرت آفریں
دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئیجس کو بہلا نہیں سکتا ہے کھلونا کوئی
میں تو جلتے ہوئے زخموں کے تلے رہتی ہوںتو نے دیکھا ہے کبھی دھوپ کا صحرا کوئی
تیرا نام لکھتی ہیں انگلیاں خلاؤں میں عشرت آفریں
مہمان شاعر: عشرت آفریں
دل ہے یا میلے میں کھویا ہوا بچہ کوئیجس کو بہلا نہیں سکتا ہے کھلونا کوئی
میں تو جلتے ہوئے زخموں کے تلے رہتی ہوںتو نے دیکھا ہے کبھی دھوپ کا صحرا کوئی
لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیںتن صحرا اور آنکھ سمندر کیوں رکھتی ہیں
عورتیں اپنے دکھ کی وراثت کس کو دیں گیصندوقوں میں بند یہ زیور کیوں رکھتی ہیں
کئی دنوں سےمجھے وہ میسج میں لکھ رہی تھی
جنابِ عالیحضورِ والا