7 اشعار

اوروں کے گھر جلا کے قیامت نہ کر سکا

auron ke ghar jala ke qayamat na kar saka

اوروں کے گھر جلا کے قیامت نہ کر سکاگھر جل گیا مگر میں شکایت نہ کر سکا

اس نے مجھے تباہ کیا اس کے باوجوددو چار دن بھی اس سے میں نفرت نہ کر سکا

اپنے سے بڑھ کے تجھ پہ مجھے اعتماد تھاافسوس تو بھی میری حفاظت نہ کر سکا

میں نے بھی اپنی موت کو دیکھا قریب سےاور اس کے بعد جینے کی حسرت نہ کر سکا

مسجد شہید ہونے کا غم تو کیا مگراک بار بھی میں اس میں عبادت نہ کر سکا

سچ ہے وطن سے اپنے محبت نہیں مجھےشاید اسی وجہ سے میں ہجرت نہ کر سکا

علویؔ غلط بیانیاں دیتے رہے سبھیسچ بولنے کی ایک بھی ہمت نہ کر سکا

— محمد علوی