7 اشعار

کام کچھ ایسا آن پڑا ہے

kaam kuch aisa aan paDa hai

کام کچھ ایسا آن پڑا ہےخطرے میں ایمان پڑا ہے

بھوکا ننگا مر رہنے کوسارا ہندستان پڑا ہے

اک کونے میں ہم رہتے ہیںدوسرے میں مہمان پڑا ہے

دیکھیں کب باہر آتا ہےدل میں جو طوفان پڑا ہے

کون سے ہم اللہ والے ہیںپیچھے کیوں شیطان پڑا ہے

گھر میں اور تو کیا ہے اپنےلے دے کے مہمان پڑا ہے

علویؔ میں اک شاعر تھا جوبرسوں سے بے جان پڑا ہے

— محمد علوی