10 اشعار

چیل کا سایا

Cheel ka Saaya

دھوپ دیوار سے رینگتے رینگتےچارپائی کے نیچے

لٹکتے ہوئے پاؤں پر آ کے ڈسنے لگی!کھیلتے کھیلتے

منی چلائی روئی پھر ہنسے لگیچیل کا سایا

آنگن سےدیوار سے

چھت سے ہوتا ہواپاس والی گلی میں کہیں گر گیا!

اور میں دھوپ میںجھولتی چارپائی پر لیٹا ہوا

الگنی پر لٹکتیپھٹی پینٹ کی خالی جیبوں کو تکتا رہا!

پینٹ کی خالی جیبوں سے پانی ٹپکتا رہا!دھوپ کا زہر

پیروں سے ہوتا ہوادل کی جانب لپکتا رہا!

چیل کا سایاسارے بدن میں بھٹکتا رہا!!

— محمد علوی